MOJ E SUKHAN

اور کوئی نہیں تھا میرے خلاف

اور کوئی نہیں تھا میرے خلاف
میں تو خود ہی رہا ہوں اپنے خلاف

وہ حقیقت میں تھا خود اپنے خلاف
جو کیا میں نے دوسروں کے خلاف

ہر کوئی دوسرے کی فکر میں ہے
ہر کوئی ہے یہاں کسی کے خلاف

عمرِ دو روزہ میں یہی دیکھا
کبھی اپنے کبھی پرائے خلاف

جو برے تھے وہ خیر تھے ہی برے
کر لیے ہم نے اچھے اچھے خلاف

ایک ماں باپ کے جو بچے تھے
ہوگئے ایک دوسرے کے خلاف

کیا یہی زندگی کا حاصل ہے
باپ بیزار اور بیٹے خلاف

جس کی آغوش میں پھلے پھولے
اسی ماں کے ہوئے ہیں بچے خلاف

جن کو ہم اپنی جان کہتے تھے
وہ ہوئے ہیں ہمارے کتنے خلاف

کیا شکایت کریں زمانے کی
وہ تو ہوتا ہے ہر کسی کے خلاف

وقت کی کج ادائیوں پہ نہ جا
کبھی میرے کبھی ہے تیرے خلاف

کیا شرف آدمی کو حاصل ہے
آدمی جب ہے آدمی کے خلاف

دنیا داری جمیل مجھ میں کہاں
میں تو دنیا کے تھا شروع سے خلاف

جمیل یوسف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم