اور کوئی نہیں تھا میرے خلاف
میں تو خود ہی رہا ہوں اپنے خلاف
وہ حقیقت میں تھا خود اپنے خلاف
جو کیا میں نے دوسروں کے خلاف
ہر کوئی دوسرے کی فکر میں ہے
ہر کوئی ہے یہاں کسی کے خلاف
عمرِ دو روزہ میں یہی دیکھا
کبھی اپنے کبھی پرائے خلاف
جو برے تھے وہ خیر تھے ہی برے
کر لیے ہم نے اچھے اچھے خلاف
ایک ماں باپ کے جو بچے تھے
ہوگئے ایک دوسرے کے خلاف
کیا یہی زندگی کا حاصل ہے
باپ بیزار اور بیٹے خلاف
جس کی آغوش میں پھلے پھولے
اسی ماں کے ہوئے ہیں بچے خلاف
جن کو ہم اپنی جان کہتے تھے
وہ ہوئے ہیں ہمارے کتنے خلاف
کیا شکایت کریں زمانے کی
وہ تو ہوتا ہے ہر کسی کے خلاف
وقت کی کج ادائیوں پہ نہ جا
کبھی میرے کبھی ہے تیرے خلاف
کیا شرف آدمی کو حاصل ہے
آدمی جب ہے آدمی کے خلاف
دنیا داری جمیل مجھ میں کہاں
میں تو دنیا کے تھا شروع سے خلاف
جمیل یوسف