MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسا تہ افلاک خرابہ نہیں کوئی

ایسا تہ افلاک خرابہ نہیں کوئی
اس دشت سے زندہ کبھی لوٹا نہیں کوئی

ہیبت وہ صداؤں میں کہ لرزے در و دیوار
گزرے وہ شب و روز کہ سویا نہیں کوئی

ویران سی ویران ہوئی دھیان کی بستی
چہرہ کسی چلمن سے جھلکتا نہیں کوئی

سر پھوڑ کے لوٹ آتی ہے جاتی ہے جو آواز
کیا گنبد آفاق میں رستہ نہیں کوئی

اک ایسی مسافت ہے کہ ساعت بھی کٹھن ہے
صدیوں کا سفر اور کہیں سایہ نہیں کوئی

بے اسم نہیں کھلتا در گنج طلسمات
سطروں میں خزینے ہیں تماشا نہیں کوئی

دیکھی ہے بشیرؔ اہل نظر کی بھی رسائی
باتیں مری سمجھے مجھے سمجھا نہیں کوئئ

بشیر احمد بشیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم