MOJ E SUKHAN

بہت تھکان بدن میں مرے سفر کی رہی

غزل

بہت تھکان بدن میں مرے سفر کی رہی
مگر وہ شوق کی منزل کہ ہر نگر کی رہی

وہ جس پہ چل کے سدا پاؤں زخم زخم ہوئے
نہ جانے کھوج ہمیں کیوں اسی ڈگر کی رہی

جو میری ذات کی پنہائیاں سمجھ لیتی
تمام عمر ضرورت اسی نظر کی رہی

جب اپنے آپ میں ڈوبے فلک کو چھو آئے
کہ احتیاج ہمیں اب نہ بال و پر کی رہی

ہمیں سے سنت منصور اب بھی زندہ ہے
کہ ہر زمانے کو حاجت ہمارے سر کی رہی

بلا سبب تو کرامتؔ پہ اپنی ناز نہیں
کہ چار دانگ میں شہرت مرے اثر کی رہی

کرامت غوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم