MOJ E SUKHAN

تتلیوں کی سوچ گر اپنائیں گے

تتلیوں کی سوچ گر اپنائیں گے
خوشبوؤں سے دیس کو مہکائیں گے

رقص پریوں کا دکھائیں گے تمہیں
آبشاروں کے ترانے گائیں گے

ظلم جب برداشت سے باہر ہوا
صبر کو ہم سامنے لے آئیں گے

پیڑ سارے جل رہے ہیں دھوپ میں
بادلوں کو کھینچ کر ہم لائیں گے

ہاتھ میں پتھر ہیں جن کے آج کل
شیش محلوں میں اُنہیں ٹہرائیں گے

ہے فضا نمناک سارے شہر کی
کب تلک صدمے اُٹھاتے جائیں گے

ہم بھی عابد بے لباسی اوڑھ کر
مقبرہ تہذیب کا بنوائیں گے

حنیف عابد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم