غزل
ترے طلسم سے نکلے ہوئے زمانے ہوئے
مجھے تو خود سے بھی بچھڑے ہوئے زمانے ہوئے
سمیٹ رکھی ہیں پلکوں سے کرچیاں دل کی
کہ خوش نظر کی حدوں سے ملے زمانے ہوئے
کہاں ملی ہمیں منزل طلب کے راستے کی
کہ تیرے ساتھ بھی چلتے ہوئے زمانے ہوئے
صحیفہ پھر کوئی اترے زمینِ شاعری پر
کہ اسمان سے اترے ہوئے زمانے ہوئے
روبینہ راجپوت