حسرتِ آب و گِل دوبارہ نہیں
دیکھ، دنیا نہیں، ہمیشہ نہیں
سادہ کاری، کئ پرت، کئ رنگ
سادگی اک ادائے سادہ نہیں
حالِ دل اتنے پیار سے مت پوچھ
حال آئندہ ہے، گزشتہ نہیں
میں کہیں اور کس طرح جاؤں
تو کسی اور کے علاوہ نہیں
اے ستارو! کسے پکارتے ہو
اس خرابے میں کوئی زندہ نہیں
کبھی ہر سانس میں زمان و مکاں
کبھی برسوں میں ایک لمحہ نہیں
محبوب خزاں