MOJ E SUKHAN
No Record Found
کلرکوں کی سبھی میزوں پہ انورؔہر اک فائل مزے سے سو رہی ہے
اگرچہ کام سارے رک گئے ہیںمگر میٹنگ برابر ہو رہی ہے
انور مسعود
تُو فیصلۂ ترکِ ملاقات میں گُم ہے
مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے
چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانی
سوا نیزے پہ آکر جان رکھتا
خود پہ اک اختیار دے دو گے
میرے ہر وصل کے دَوران مجھے گُھورتا ہے
مدّت سے یہی خونِ جگر دیکھ رہے ہیں
جلتی ہوئی رتوں کے خریدار کون ہیں
آج اشکوں سے ہم وضو کریں گے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے