MOJ E SUKHAN
No Record Found
کلرکوں کی سبھی میزوں پہ انورؔہر اک فائل مزے سے سو رہی ہے
اگرچہ کام سارے رک گئے ہیںمگر میٹنگ برابر ہو رہی ہے
انور مسعود
رازِ دل ان سے چھپاتے ہوئے تھک جاتی ہوں
جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے
جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا
تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا
شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیں
اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا
میں تیرے واسطے تازہ گلاب ہو جاؤں
دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے
کیفیت ہی کیفیت میں ہم کہاں تک آ گئے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے