MOJ E SUKHAN

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلے

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلے
کیسی امید لئے آئے تھے ناکام چلے

او مری بزم تمنا کے سجانے والے
لطف کر لطف کہ دنیا میں ترا نام چلے

چھین لے چرخ ستم گار سے انداز خرام
کچھ اگر زور ترا گردش ایام چلے

ایک وہ ہیں کہ ترا لطف و کرم ہے جن پر
ایک ہم ہیں کہ تری بزم سے ناکام چلے

عزم راسخ نے بھی گھبرا کے قدم توڑ دئے
کوچۂ یار میں ہم یوں سحر و شام چلے

مست آنکھوں کا اگر ایک اشارہ ہو جائے
وجد میں آئے سبو اور کہیں جام چلے

نیند بیمار محبت کو کہیں آتی ہے
صبح تا شام اگر باد سبک گام چلے

رہرو عشق ہیں منزل کی ہمیں کیا امید
کیا چلے خاک اگر بیٹھ کے دو گام چلے

کون جائے ہدف تیر نظر ہونے کو
صبر سے کام اگر اے دل ناکام چلے

حیف صد حیف تھی امید رفاقت جن سے
آج وہ بھی مرے سر تھوپ کے الزام چلے

ایک شاطرؔ کے نہ ہونے سے بگڑتا کیا ہے
تیری محفل رہے آباد ترا نام چلے

شاطر حکیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم