MOJ E SUKHAN

زمانہ اف یہ کیسا ہو رہا ہے

زمانہ اف یہ کیسا ہو رہا ہے
جو سیدھا تھا وہ الٹا ہو رہا ہے

اب اہل علم میں تاریکیاں ہیں
جہالت میں سویرا ہو رہا ہے

وہاں پر زندگی کیسے بچے گی
جہاں قاتل مسیحا ہو رہا ہے

بشر کا مقصد تخلیق دیکھو
اسے ہونا تھا کیا کیا ہو رہا ہے

یہ ہے تقلید مغرب کا نتیجہ
جدا مسلم سے پردہ ہو رہا ہے

ہماری راست گوئی کام آئی
وفا ہونا تھا وعدہ ہو رہا ہے

جمال فکر و فن کا تیرے انورؔ
سخن دانوں میں چرچا ہو رہا ہے

انور جمال انور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم