زیست کی شام تلک تیری طلب
صبحِ ہنگام تلک تیری طلب
شام سے صبح تلک تیرا خیال
صبح سے شام تلک تیری طلب
گاؤں سے شہر تلک خط کا سفر
تیرے ہمنام تلک تیری طلب
مصر سے شام تلک پابہ رکاب
شہرِ اصنام تلک تیری طلب
عشق کی آخری معراج ہے تو
اپنے انجام تلک تیری طلب
چشم عشاق کو پھرتی ہے لیے
بام سے بام تلک تیری طلب
شہر تقدیس سے لے آئی مجھے
شہر اوہام تلک تیری طلب
عشق گرچہ ہے قبیلہ میں حرام
حرف دشنام تلک تیری طلب
ثمر خانہ بدوش