MOJ E SUKHAN

سریلا ساز کوئی دے رہا ہے

سریلا ساز کوئی دے رہا ہے
مجھے اواز کوئی دے رہا ہے

نکالا تھا جیسے گلشن میں تم نے
اسے اعزاز کوئی دے رہا ہے

غموں کی دھوپ میں جینے کے مجھکو
۔نئے انداز کوئی دے رہا ہے

یقیں کیسے کریں ہم دوستوں پر
کسی کا راز کوئی دے رہاہے

فنا سچ کہ پر تیرے ہیں لیکن
۔اسے پرواز کوئی دے رہا پے

سید ظہیر فنا شموگا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم