Shoq hy Chupne ka to ae khana nasheen chup
غزل
شوق ہے چھپنے کا تو اے خانہ نشیں چھپ
خول میں رہ ذات ہی کے اور وہیں چھپ
برہم اگر آسماں ہے زیر زمیں چھپ
خاک ہے تو خاک میں اے خاک نشیں چھپ
قبر میں پندار کی سکون بہت ہے
بات مری مان آ کے تو بھی یہیں چھپ
دست اجل سے اگر ہے بچنا تجھے
تو عالمِ ہستی سے جا کے دور کہیں چھپ
زخم نہاں سے کہا ہے ضبط نے میرے
خود پہ اگر زعم ہے تو دل کے قریں چھپ
آہ و فغاں کے علاوہ کیا ہے یہاں پر
کس نے کہا تھا درون قلب حزیں چھپ
جراَت و مردانگی سے کام لے پیارے
شرم کے پردے میں یوں نہ مثلِ حسیں چھپ
یار نے وعدہ کیا ہے دید کا ہم سے
بدلیوں میں آج مت اے ماہ مبیں چھپ
دشمن جانی سے کوئی جیسے چھپے
ہے چاہنے والوں سے شاؔد ایسے نہیں چھپ
شمشاد شاد
Shamshad Shad