MOJ E SUKHAN

شوق ہے چھپنے کا تو اے خانہ نشیں چھپ

Shoq hy Chupne ka to ae khana nasheen chup

غزل

شوق ہے چھپنے کا تو اے خانہ نشیں چھپ
خول میں رہ ذات ہی کے اور وہیں چھپ

برہم اگر آسماں ہے زیر زمیں چھپ
خاک ہے تو خاک میں اے خاک نشیں چھپ

قبر میں پندار کی سکون بہت ہے
بات مری مان آ کے تو بھی یہیں چھپ

دست اجل سے اگر ہے بچنا تجھے
تو عالمِ ہستی سے جا کے دور کہیں چھپ

زخم نہاں سے کہا ہے ضبط نے میرے
خود پہ اگر زعم ہے تو دل کے قریں چھپ

آہ و فغاں کے علاوہ کیا ہے یہاں پر
کس نے کہا تھا درون قلب حزیں چھپ

جراَت و مردانگی سے کام لے پیارے
شرم کے پردے میں یوں نہ مثلِ حسیں چھپ

یار نے وعدہ کیا ہے دید کا ہم سے
بدلیوں میں آج مت اے ماہ مبیں چھپ

دشمن جانی سے کوئی جیسے چھپے
ہے چاہنے والوں سے شاؔد ایسے نہیں چھپ

شمشاد شاد

Shamshad Shad

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم