MOJ E SUKHAN

طاقچے کو دیا بنا لیں گے

طاقچے کو دیا بنا لیں گے
زخم کو خوش نما بنا لیں گے

آنکھ بٌنتے ہیں تیرے دریا سے
دشت کو نقشِ پا بنا لیں گے

کچھ نہ سوجھا تو رو پڑیں گے ہم
خامشی کو صدا بنا لیں گے

اس کی محفل میں آج دعوت ہے
ہم بھی تھوڑی جگہ بنا لیں گے

عشق سے رابطہ کریں گے ہم
درد کو آشنا بنا لیں گے

خواب کے ٹوٹنے پہ خوش ہو لیں
پھر کوئی آئنہ بنا لیں گے

دشمنی بھی نبھا کے دیکھتے ہیں
بعد میں فاختہ بنا لیں گے

ارشاد نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم