MOJ E SUKHAN

لبوں سے آشنائی دے رہا ہے

لبوں سے آشنائی دے رہا ہے
وہ لذت انتہائی دے رہا ہے

محبت بھی ہوئی کار مشقت
بدن تھک کر دہائی دے رہا ہے

چراتا ہے بدن مجھ سے نگاہیں
مجھے دل بھی صفائی دے رہا ہے

کوئی بھر دے گا اپنی قربتوں سے
کوئی زخم جدائی دے رہا ہے

کوئی تو ہے جو اتنی سردیوں میں
بدن جیسی رضائی دے رہا ہے

کوئی مجھ کو یشبؔ اپنی رضا سے
خزانوں تک رسائی دے رہا ہے

یشب تمنا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم