MOJ E SUKHAN

میکدے سے در جاناں کی طرف آئے ہیں

غزل

میکدے سے در جاناں کی طرف آئے ہیں
آج ہم کفر سے ایماں کی طرف آئے ہیں

لوگ جاتے ہیں بہاروں میں گلستاں کی طرف
ہم گلستاں سے بیاباں کی طرف آئے ہیں

دیدہ و دل کو ہے قربت ترے غم سے لیکن
اشک بہہ کر مرے داماں کی طرف آئے ہیں

جب بھی آداب جنوں ترک کئے ہیں ہم نے
ہاتھ وحشت میں گریباں کی طرف آئے ہیں

تھی جنہیں بحر حوادث میں کنارے کی تلاش
جانے کیا سوچ کے طوفاں کی طرف آئے ہیں

اہل گلشن پہ کوئی وقت پڑا ہے جب بھی
پھول اڑاڑ کے بیاباں کی طرف آئے ہیں

تیر اس کی نگہ ناز کے اکثر شاداںؔ
دل سے گزرے ہیں رگ جاں کی طرف آئے ہیں

شاداں بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم