MOJ E SUKHAN

نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کا

نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کا
ارباب گلستاں پہ نہیں کم نظری کا

توفیق رفاقت نہیں ان کو سر منزل
رستے میں جنہیں پاس رہا ہم سفری کا

اب خانقہ و مدرسہ و مے کدہ ہیں ایک
اک سلسلہ ہے قافلۂ بے خبری کا

ہر نقش ہے آئینۂ نیرنگ تماشا
دنیا ہے کہ حاصل مری حیراں نظری کا

اب فرش سے تا عرش زبوں حال ہے فطرت
اک معرکہ در پیش ہے عزم بشری کا

کب ملتی ہے یہ دولت بیدار کسی کو
اور میں ہوں کہ رونا ہے اسی دیدہ وری کا

بے واسطۂ عشق بھی رنگ رخ پرویز
عنوان ہے فرہاد کی خونیں جگری کا

آخر ترے در پہ مجھے لے آئی محبت
دیکھا نہ گیا حال مری در بدری کا

دل میں ہو فقط تم ہی تم آنکھوں پہ نہ جاؤ
آنکھوں کو تو ہے روگ پریشاں نظری کا

بے پیرویٔ میرؔ حفیظؔ اپنی روش ہے
ہم پر کوئی الزام نہیں کم ہنری کا

حفیظ ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم