MOJ E SUKHAN

نظم دستک

نظم دستک

تم نے پہلی دستک دی
اور لوٹ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہم یہ سوچ کے دل دروازہ
وا کر بیٹھے
شاید پھر تم قریہ قریہ
گھومنے والی
شوخ ہوا کا جھونکا نکلے
تم کیا جانو !
پہلی دستک کیا ہوتی ہے
دل دروازہ کب کھلتا ہے
تم کیا جانو!
دھیمی دھیمی آگ میں جلنا کیا ہوتا ہے
آپ ہی اپنی لو میں پگھلنا کیا ہوتا ہے
تم نے پہلی دستک دی ۔ ۔

خالد معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم