MOJ E SUKHAN

کبھی عشق سے کبھی پیار سے

غزل

کبھی عشق سے کبھی پیار سے
کبھی موسموں کی بہار سے

شب ہجر روشنی ہو گئی
مرے آنسوؤں کی قطار سے

نہ بہل سکی نہ نکل سکی
ترے دل کے ایک بھی تار سے

نہ ہی تیرے دل میں ٹھہر سکی
کبھی اضطراب و قرار سے

میں نکل کے اب کہاں جاؤں گی
تری چاہتوں کے حصار سے

یہ جو چشم ماہمؔ ابل پڑی
ترے خواب ہی کے خمار سے

ماہم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم