MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی کا خیر کیا کہوں کہ دھیان تک نہیں رہا

غزل

کسی کا خیر کیا کہوں کہ دھیان تک نہیں رہا
میں اپنے آپ پر بھی مہربان تک نہیں رہا

اس ایک لب کے معجزے میں کیا گناؤں گا تجھے
یہ دیکھ میرے زخم کا نشان تک نہیں رہا

تمام شہر جس سے ملنا چاہتا تھا ان دنوں
میں اس سے یوں ملا کہ اس کو جان تک نہیں رہا

ذرا سی بات پر خفا ہوا تھا اور کیا کہوں
سو ہاتھ جوڑنے پہ بھی وہ مان تک نہیں رہا

تمہارا ہجر ایک رات پاؤں سے لپٹ گیا
میں اپنے گھر میں صبح کی اذان تک نہیں رہا

پڑے پڑے یہیں پہ ڈھیر ہو نہ جائے یہ بدن
میں خاک اپنی راستوں پہ چھان تک نہیں رہا

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم