کشمکش یوں تو مسلسل ہی زمانے سے رہی
آپ کے عہد میں کچھ اور بہانے سے رہی
زندگی درد کا معیار بڑھانے سے رہی
ہم نہ روئیں تو ہنسی غیر کو آنے سے رہی
خود ہی کچھ خون جلاؤ کہ اجالا ہو جائے
شمع تو خانۂ بے نور تک آنے سے رہی
صبر والوں کی زباں وقت بھی بن جاتا ہے
میری ایذا طلبی بات بڑھانے سے رہی
بے جھجک رنگ اچھالیں چمنستاں والے
غم نصیبوں کی خبر لوٹ کے آنے سے رہی
ہم تو برباد نشیمن ہوئے لیکن صیاد
خود چمن کی بھی کوئی چیز ٹھکانے سے رہی
صاحب وقت غریبوں سے کھٹکتا کیوں ہے
مفلسی تاج مہ و مہر تو پانے سے رہی
آپ کتنے ہی پرستار وفا ہوں انجمؔ
زندگی آپ کو محبوب بنانے سے رہی
انجم فوقی بدایونی