MOJ E SUKHAN

کشمکش یوں تو مسلسل ہی زمانے سے رہی

کشمکش یوں تو مسلسل ہی زمانے سے رہی
آپ کے عہد میں کچھ اور بہانے سے رہی

زندگی درد کا معیار بڑھانے سے رہی
ہم نہ روئیں تو ہنسی غیر کو آنے سے رہی

خود ہی کچھ خون جلاؤ کہ اجالا ہو جائے
شمع تو خانۂ بے نور تک آنے سے رہی

صبر والوں کی زباں وقت بھی بن جاتا ہے
میری ایذا طلبی بات بڑھانے سے رہی

بے جھجک رنگ اچھالیں چمنستاں والے
غم نصیبوں کی خبر لوٹ کے آنے سے رہی

ہم تو برباد نشیمن ہوئے لیکن صیاد
خود چمن کی بھی کوئی چیز ٹھکانے سے رہی

صاحب وقت غریبوں سے کھٹکتا کیوں ہے
مفلسی تاج مہ و مہر تو پانے سے رہی

آپ کتنے ہی پرستار وفا ہوں انجمؔ
زندگی آپ کو محبوب بنانے سے رہی

انجم فوقی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم