MOJ E SUKHAN

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں
اجڑنے لگیں خود بہ خود بستیاں

جسے دیکھنے گھر سے نکلے تھے ہم
دھواں ہو گیا شام کا وہ سماں

سبھی کچھ تو دریا بہا لے گیا
تجھے اور کیا چاہئے آسماں

بس اک دھند ہے اور کچھ بھی نہیں
روانہ ہوئی تھیں جدھر کشتیاں

ابھی طے شدہ کوئی جادہ نہیں
ابھی تک بھٹکتے ہیں سب کارواں

یہی اک خبر گرم تھی شہر میں
کہ اک شوخ بچے نے کھینچی کماں

تماشا دکھا کے گئی صبح نو
خموشی ہے پھر سے وہی درمیاں

تعارف مرا کوئی مشکل نہیں
میں آشفتہؔ چنگیزی ابن خزاں

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم