MOJ E SUKHAN

کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھا

غزل

کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھا
اور اس پہ نور کسی ماہتاب کا سا تھا

بہار کی کوئی توجیہہ اور کیا کیجے
تمام رنگ تمہارے شباب کا سا تھا

تمام شہر تمنا میں گھوم کر دیکھا
وہی سماں دل خانہ خراب کا سا تھا

ترے قریب تو خود سے بعید ہو کے رہے
تمہارا لطف تمہارے عتاب کا سا تھا

وہ ایک پل جو تمہارے بغیر بیت گیا
وہ ایک پل بھی تو یوم حساب کا سا تھا

فیض تبسم تونسوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم