MOJ E SUKHAN

ہمارا آئنہ بے کار ہو گیا تو پھر

غزل

ہمارا آئنہ بے کار ہو گیا تو پھر
تمہارا حسن طرحدار ہو گیا تو پھر

ملا کے خاک میں وہ سوچتا رہا برسوں
میں آئنے میں نمودار ہو گیا تو پھر

رکاوٹیں تو سفر کا جواز ہوتی ہیں
یہ راستہ کہیں ہموار ہو گیا تو پھر

وہ ماہتاب ہے، میں جھیل اور سفر درپیش
وہ مجھ سے ہوتا ہوا پار ہو گیا تو پھر

تمام شہر نے لوٹا دیا ہے خالی ہاتھ
اور اس کے در سے بھی انکار ہو گیا تو پھر

تو کیوں نہ راستہ تبدیل کر لیا جائے
کہیں جو مجھ سے تمہیں پیار ہو گیا تو پھر

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم