MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمارے دل ہی میں واعظ یہ راز رہنے دے

غزل

ہمارے دل ہی میں واعظ یہ راز رہنے دے
تجھے حسینوں سے ہے احتراز رہنے دے

ہوس پرستوں سے کیسا حجاب کیا پردہ
بس اب یہ شیوۂ انداز و ناز رہنے دے

اگر عدو سے تجھے ہم کلام ہونا ہے
مری طرف نگہ دل‌ نواز رہنے دے

وہ بزم غیر میں ہم سے بھی کاش کھل کے ملے
ہمارے عشق کو اس طرح راز رہنے دے

عجب بہار ہے اس کی عجیب رنگینی
ہمارے خون کو دامن طراز رہنے دے

ہیں تیری آنکھوں میں فتنے بھرے ہوئے ظالم
میں تیرے صدقے انہیں نیم باز رہنے دے

مزا اذیت الفت کا کیا کہیں ناصح
یہ ایک راز ہے اب اس کو راز رہنے دے

ہزار طرح کے ہیں یوں تو نغمے دنیا میں
ہمیں فدائے سرود حجاز رہنے دے

یہ چیز کام کی ہے پردہ پوش عیب کی بھی
تو اپنی ریش کو واعظ دراز رہنے دے

اٹھا نہ بیدلؔ سجدہ گزار کو در سے
خدا کے واسطے محو نماز رہنے دے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم