MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنکھ سے جو نمی نہیں جاتی

آنکھ سے جو نمی نہیں جاتی
غم کی شدت سہی نہیں جاتی

اک نہ اک بات ایسی ہوتی ہے
جو کسی سے کہی نہیں جاتی

میری تو جان پر بنی ہوئی ہے
اور تیری دل لگی نہیں جاتی

تو مرے روبرو نہ ہو جب تک
دل کی حالت کہی نہیں جاتی

وقت یوں تو گزرتا جاتا ہے
ہجر کی اک گھڑی نہیں جاتی

عمر پردیس میں گزاری، پر
دیس کی تشنگی نہیں جاتی

یوں میسر مجھے سبھی کچھ ہے
ایک تیری کمی نہیں جاتی

جھوٹ چہرے پہ درج ہے تیرے
داستاں تک گھڑی نہیں جاتی

قصرِ منعم، سکوتِ خلوت ہے
دل کی پر بے کلی نہیں جاتی

رنگ، خوشبو، گلاب سب کچھ ہے
دل کی بے رونقی نہیں جاتی

یہ جو تلخی ہے اس کے لہجے میں
شمسؔہ مجھ سے سہی نہیں جاتی

شمسہ نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم