MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اگر نہ ہوتا ترا آستاں غریب نواز

اگر نہ ہوتا ترا آستاں غریب نواز
غریب کا تھا ٹھکانا کہاں غریب نواز

غم جہاں کے ستائے ہیں پر آئے ہیں
تمہارا در ہے کہ دارلاماں غریب نواز

مریض غم ہیں کوئی چارہ گر نہیں ملتا
ہم اپنا داغ دکھائیں کہاں غریب نواز

یہ در وہ در ہے جہاں زندگی سنورتی ہے
یہاں سے جائیں تو جائیں کہاں غریب نواز

ہر آدمی یہاں دل سے یقیں رکھتا ہے
کہ سن رہے ہیں مری داستاں غریب نواز

رسولِ پاک کے صدقہ میں راہ دکھلا دو
بھٹک رہا ہے مرا کارواں غریب نواز

جلائے جاتے ہیں پھر آشیاں غریبوں کے
پھر اُٹھ رہا ہے چمن سے دھواں غریب نواز

یہ شان بندہ نوازی تو دیکھئے ان کی
وہیں غریب کھڑے ہیں جہاں غریب نواز

ہمارے سامنے اک روز یوں بھی آجاؤ
کوئی حجاب نہ ہو درمیاں غریب نواز

زباں ترستی ہے مدت سے گفتگو کے لئے
کہاں سے لاؤں میں حسنِ بیاں غریب نواز

کہاں میں اور کہاں رازؔ دامنِ خواجہ
کہ میں زمین ہوں اور آسماں غریب نواز

راز الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم