MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بات کی بات سے ڈر لگتا ہے

بات کی بات سے ڈر لگتا ہے
اس مساوات سے ڈر لگتا ہے

تم کوئی بات سمجھتے ہی نہیں
بس اسی بات سے ڈر لگتا ہے

جس میں کوئی نہ ملے اپنے سوا
اس ملاقات سے ڈر لگتا ہے

دل بضد ہے کہ وہی بات کہو
سب کو جس بات سے ڈر لگتا ہے

راز کی بات تو کوئی بھی نہیں
عرض‌ حالات سے ڈر لگتا ہے

جن میں گرمی نہ اجالے نہ مہک
ایسے دن رات سے ڈر لگتا ہے

خود کو پرکھا تو یہ سمجھے انجمؔ
کیوں کسی ذات سے ڈر لگتا ہے

انجم فوقی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم