MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بس یہی دل کا ہے ارمان مدینے میں رہے

بس یہی دل کا ہے ارمان مدینے میں رہے
شاہِ والا یہ ثناخوان مدینے میں رہے

دور کیسے وہ رہے آپ کے در سے مولا
جس کے ہر درد کا درمان مدینے میں رہے

دل کی دھڑکن کی صدا کیوں نہ ہو طیبہ طیبہ
جب کہ وہ خاصۂ خاصان مدینے میں رہے

خود عمل کرکے دکھایا ہے نبی نے ہم کو
بن کے وہ پیکرِ قرآن مدینے میں رہے

اُمتی ہوکے گناہوں میں گرفتار ہیں ہم
سوچ کر ہم یہ پشیمان مدینے میں رہے

عاصیوں پر بھی ہے کس درجہ عنایت ان کی
ہم تو اس بات پہ حیران مدینے میں رہے

جانثارانِ محمد کی ہے نکہت اس میں
حیدر و بوذر و سلمان مدینے میں رہے

کیوں نہ دل ہو مرا قربان مدینے پہ صبا ؔ
رہبرِ دیں شہِ ذیشان مدینے میں رہے

کلام: صبا عالم شاہ
انگلینڈ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم