بہت ہی خوش ہوں کہ پیاروں سے ہو کے آیا ہوں
میں رفتگاں کے مزاروں سے ہو کے آیا ہوں
میں شہرِ وصل میں آسان تو نہیں پہنچا
جنوں کی راہگذاروں سے ہو کے آیا ہوں
یہ اور بات کہ لگتا ہے تُو ہی پہلا ہے
میں تیرے پاس ہزاروں سے ہو کے آیا ہوں
پہنچ گیا ہوں تو اب سُن ہی لے مری عرضی
بڑی طویل قطاروں سے ہو کے آیا ہوں
غزل سرائے ، چمن زار ، مے کدہ ، صحرا
تری تلاش میں چاروں سے ہو کے آیا ہوں
اسی لیے ہے مرے پانیوں میں شیرینی
مہکتے میٹھے دیاروں سے ہو کے آیا ہوں
کچھ اِس لیے بھی پرندے مجھے سراہتے ہیں
میں خاک زاد ستاروں سے ہو کے آیا ہوں
تمہیں میں دیکھ کے پلٹوں تو ایسا لگتا ہے
کہ میں اجنتا کے غاروں سے ہو کے آیا ہوں