MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تم سے پہلے بھی کسی اور نے چاہا تھا مجھے

تم سے پہلے بھی کسی اور نے چاہا تھا مجھے
یہی باتیں یہی انداز وفا تھے اس کے

اس کے بھی سامنے تھے رسموں رواجوں کے عذاب
جتنے بھی خواب تھے سب آبلہ پا تھے اس کے

وہ بھی سر کش تھا بہت اپنے خیالوں کی طرح
حوصلے عشق میں مانندِ ہوا تھے اس کے

تم پہ بھی اتری ہیں یہ وحشتیں تازہ تازہ
موم سے تم بھی بنائی ہوئی اک مورت ہو

سوچ لو وہ بھی اک عورت تھی تمہاری جیسی
مختلف تم بھی نہیں، تم بھی تو اک عورت ہو!

اعتبار ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم