MOJ E SUKHAN

جب بھی زنجیر کے آہن کی کھنک آئی ہے

جب بھی زنجیر کے آہن کی کھنک آئی ہے
بس یہی سوچ کے آنکھوں میں چمک آئی ہے

پھر کوئی دل کا غنی آ گیا زندانوں میں
پھر کوئی سر خمِ تسلیم سے انکاری ہے

پھر کوئی ظرف سے گرنے کو نہیں ہے تیار
پھر کسی شاہ کی نظروں میں یہ غداری ہے

پھر کوئی شمع جلی رات کے ویرانوں میں
پھر کوئی شام نئی صبح سے شرمائی ہے

پھر کوئی اہلِ نظر منصبِ منصور پہ ہے
پھر کہیں تاج و کلاہ باعثِ رسوائی ہے

سلمان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم