MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب خبر ہی نہ کوئی موسم گل کی آئی

جب خبر ہی نہ کوئی موسم گل کی آئی
کاغذی پھول پہ کچھ سوچ کے تتلی آئی

سبز پتوں نے بھی شاخوں سے بغاوت کر دی
آج اس شہر میں کس زور کی آندھی آئی

اب یہ بستی ہوئی دیواروں کی کثرت کا شکار
اب یہاں رہنے میں بے طرح خرابی آئی

قہقہہ شب نے لگایا ہے بڑے طنز کے ساتھ
صبح جب اپنی رہائی پہ بھی روتی آئی

آنکھ اک ابر کے ٹکڑے کو ترس جاتی تھی
بارشوں سے جہاں اب اتنی تباہی آئی

رات بھر صبح کی امید پہ زندہ تھا مریض
صبح ہوتے ہی اسے آخری ہچکی آئی

مر گیا حبس کی بستی میں جوں ہی کوئی نسیمؔ
نوحہ خوانی کو وہاں تازہ ہوا بھی آئی

نسیم سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم