جو بات دل نے کی تھی کبھی بے دلی کے ساتھ
وہ بات ہم کریں تو کریں کیوں کسی کے ساتھ
اک میں ہوں اپنے جسم کے زندان کا اسیر
اک تم کہ جوڑتے ہو مجھے ہر کسی کے ساتھ
کل رات میرے خواب میں بازارِ مصر تھا
اور بک رہا تھا میں وہاں جامِ جمی کے ساتھ
میں خوش ہوں اس لیے بھی کہ اپنی حدود میں
رقصاں ہوں ایک عمر سے اس شاعری کے ساتھ
آسان ہونگی جس گھڑی ہجرت کی سختیاں
پہنچوں گا اپنے روبرو زندہ دلی کے ساتھ
گردش میں اک خبر ہے خدا خیر ہی کرے
آیا ہے میرے نام پہ خط اک کلی کے ساتھ
تصویر ہم کلام ہوئی مجھ سے کیا تری
آنسو بھی ناچنے لگے میری ہنسی کے ساتھ
پھر یہ ہوا کہ وقت نے کھینچی طنابِ جاں
پھر یہ ہوا کہ رہنا پڑا بے بسی کے ساتھ
آواز مجھ کو دی تھی کسی نے قریب سے
کھیلا تھا کھیل یعنی مری سادگی کے ساتھ
پہنچی ہے ایک موجِ نسیمی مرے حضور
اب جنگ برپا ہوگی ہر اک فلسفی کے ساتھ
نسیم شیخ