MOJ E SUKHAN

حنا کے قوس قزح کے شجر کے کیا کیا رنگ

حنا کے قوس قزح کے شجر کے کیا کیا رنگ
وہ آنکھ لائی ہے زنجیر کر کے کیا کیا رنگ

تجھے خبر نہیں پہلوئے موسم گل سے
چھلک رہے ہیں تری چشم تر کے کیا کیا رنگ

اتر رہے ہیں مری حیرتوں کے آنگن میں
فراز شب سے طلوع سحر کے کیا کیا رنگ

سر وصال ترے کیف و کم سے ظاہر ہیں
مری نظر پہ کف کوزہ گر کے کیا کیا رنگ

فضا خموش ہوئی پھر بھی رقص کرتے ہیں
نواح جاں میں کسی کی نظر کے کیا کیا رنگ

سفر میں ترک مسافت پہ دل ہوا مائل
مسافتوں میں کھلے اپنے گھر کے کیا کیا رنگ

گماں بہار کا ہوتا ہے اب خزاں پہ رضیؔ
چرا لیے ہیں خزاں نے شجر کے کیا کیا رنگ

خواجہ رضی حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم