MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خیال کر کے جو میں نے دیکھا اسی کی صورت چمک رہی ہے

خیال کر کے جو میں نے دیکھا اسی کی صورت چمک رہی ہے
اسی کا نقشہ ہے چار جانب اسی کی رنگت دمک رہی ہے

تمہارے فیض قدم سے جانا ہوا ہے سرسبز باغ عالم
تمام اس گلشن جہاں میں تمہاری خوشبو مہک رہی ہے

نہ درد جائے گا چارہ سازو عبث تمہاری ہے فکر و کوشش
کسی حسیں کی یہ نوک مژگاں ہمارے دل میں کھٹک رہی ہے

یہ باغ عالم میں رنگ دیکھا کوئی ہے غمگیں کوئی ہے خنداں
کہیں ہے شوروفغاں کہیں پہ بلبل چہک رہی ہے

عجب طرح کی یہ کشمکش ہے کہ ہم کو ہے انتظار جاناں
کمر کو باندھو اٹھاؤ بستر اجل سرہانے یہ بک رہی ہے

بسی گلوں میں اسی کی بو ہے پری وشوں میں اسی کی خو ہے
بتوں کے پردے میں دیکھ اوگھٹؔ اسی کی صورت جھلک رہی ہے

اوگھٹ شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم