MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

صبا دیکھ اک دن ادھر آن کر کے – Saba dekh aik din idhar aa kar ky

صبا دیکھ اک دن ادھر آن کر کے
یہ دل بھی پڑا ہے گلستان کر کے

یہی دل جو اک بوند ہے بحر غم کی
ڈبو دے گا سب شہر طوفان کر کے

میاں دل کو اس آئنہ رو کے آگے
جو رکھنا تو یک لخت حیران کر کے

خدا جانے کیا اصلیت غیر کی ہے
دکھے ہے بنی نوع انسان کر کے

اسے اب رقیبوں میں پاتے ہیں اکثر
رکھا جس کو خود سے بھی انجان کر کے

دکھا دیں گے اچھا اسی فصل گل میں
گریبان کو ہم گریبان کر کے

ہمارے تو اک گھر بھی ہے بھائی مجنوں
پڑے ہیں اسی کو بیابان کر کے

احمد جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم