MOJ E SUKHAN

صحرا میں کوئی سایۂ دیوار تو دیکھو

صحرا میں کوئی سایۂ دیوار تو دیکھو
اے ہم سفرو دھوپ کے اس پار تو دیکھو

جلتا ہوں اندھیروں میں کہ چمکے کوئی چہرہ
موسم ہیں عداوت کے مگر پیار تو دیکھو

دفتر کی تھکن اوڑھ کے تم جس سے ملے ہو
اس شخص کے تازہ لب و رخسار تو دیکھو

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں
تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

کل شام وہ تنہا تھا سمندر کے کنارے
کیا سوچ رہے ہو کوئی اخبار تو دیکھو

آنکھیں ہیں کہ زخمی ہیں بدن ہیں کہ شکستہ
آشوب سفر ہوں مری رفتار تو دیکھو

جاذب قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم