MOJ E SUKHAN

قطرۂ آب کو کب تک مری دھرتی ترسے

قطرۂ آب کو کب تک مری دھرتی ترسے
آگ لگ جائے سمندر میں تو پانی برسے

سرخ مٹی کی ردا اوڑھے ہے کب سے آکاش
نہ شفق پھولے نہ رم جھم کہیں بادل برسے

ہم کو کھینچے لیے جاتے ہیں سرابوں کے بھنور
جانے کس وقت میں ہم لوگ چلے تھے گھر سے

کس کی دہشت ہے کہ پرواز سے خائف ہیں طیور
قمریاں شور مچاتی نہیں کس کے ڈر سے

چار سو کوچہ و بازار میں محشر ہے بپا
خوف سے لوگ نکلتے نہیں اپنے گھر سے

مڑ کے دیکھا تو ہمیں چھوڑ کے جاتی تھی حیات
ہم نے جانا تھا کوئی بوجھ گرا ہے سر سے

زاہدہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم