غزل
مجھ سے تو حال رفتہ سنایا نہیں گیا
دُکھڑا کسی کے سامنے لایا نہیں گیا
میں انتظار میں رہی شوقِ کلام کے
محفل میں تیری مجھ کو بُلایا نہیں گیا
حاصل کیا جو کچھ بھی وہ کسبِ حلال سے
مجھ سے حرام نوٹ کمایا نہیں گیا
جو کام بھی کیا وہ سلیقے سے ہی کیا
مجھ سے یوں وقتی کام چلایا نہیں گیا
مانی نہ میں کسی بھی طرح شرک کے لئے
آگے بُتوں کے سر کو جھکایا نہیں گیا
جب جانتا نہ تھا مجھے کوئی جہان میں
مجھ سے ثمرؔ وہ وقت بھلایا نہیں گیا
ثمرین ندیم ثمر