MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کس طرح چھوڑ دوں اے یار میں چاہت تیری

کس طرح چھوڑ دوں اے یار میں چاہت تیری
میرے ایمان کا حاصل ہے محبت تیری

جانے کیا بات ہے جلووں میں ترے جان جہاں
یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری

اب نگاہوں میں جچے گا نہ کوئی رنگ و جمال
میری آنکھوں کو پسند آ گئی رنگت تیری

اپنی قسمت پہ فرشتوں کی طرح ناز کروں
مجھ پہ ہو جائے اگر چشم عنایت تیری

حرم و دیر کے جلووں سے مجھے کیا مطلب
شیشۂ دل میں اتر آئی ہے صورت تیری

آستانے سے ترے سر نہ اٹھے گا میرا
مدعا بن کے ملی ہے مجھے نسبت تیری

میں فناؔ ہو کے پہنچ جاؤں گا تیرے در تک
راہ دکھلانے لگی مجھ کو محبت تیری

فنا بلند شہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم