MOJ E SUKHAN

کون اپنے تھے جو دشمن کے حواری نکلے

کون اپنے تھے جو دشمن کے حواری نکلے
بات نکلی ہے تو پھر ساری کی ساری نکلے

ہم تو سمجھے تھے کہ تقدیسِ قلم جانتے ہیں
ہائے جو لوگ کرائے کے لکھاری نکلے

میری جانب سے یہ اعلان سناؤ سب کو
جو مری صف میں ہے گر عشق سے عاری, نکلے

یہ کوئی کھیل نہیں سوچ سمجھ کے کرنا
یہ نہ ہو عشق کہیں جان پہ بھاری نکلے

دیکھنے لگتے ہیں سب لوگ مری آنکھوں میں
میرے ہر شعر میں جب بات تمھاری نکلے

تخت پر جن کو بٹھایا تھا فسانے میں صغیر
وہ اداکار تو شجرے سے بھکاری نکلے

صغیر احمد صغیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم