MOJ E SUKHAN

ہمیں اب یہ بتایا جا رہا ہے

ہمیں اب یہ بتایا جا رہا ہے
نیا سورج اگایا جا رہا ہے

جو منظر دیکھ کر اکتا چکے ہم
وہی منظر دکھایا جا رہا ہے

اسے پانا کوئی آساں نہین تھا
جو دانستہ گنوایا جا رہا ہے

سرابوں کے مناظر کہہ رہے ہیں
حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے

بہت ہیں روشنی کرنے کے دعوے
دیا لیکن بجھایا جا رہا ہے

وہاں تک خود پہنچ پایا نہیں میں
جہاں تک میرا سایا جا رہا ہے

نسیم سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم