ہمیں اب یہ بتایا جا رہا ہے
نیا سورج اگایا جا رہا ہے
جو منظر دیکھ کر اکتا چکے ہم
وہی منظر دکھایا جا رہا ہے
اسے پانا کوئی آساں نہین تھا
جو دانستہ گنوایا جا رہا ہے
سرابوں کے مناظر کہہ رہے ہیں
حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے
بہت ہیں روشنی کرنے کے دعوے
دیا لیکن بجھایا جا رہا ہے
وہاں تک خود پہنچ پایا نہیں میں
جہاں تک میرا سایا جا رہا ہے
نسیم سحر