MOJ E SUKHAN
No Record Found
یہ حیرتوں کے سلسلے عجب ہیں واقعات میںسسک رہی ہے زندگی تمہارے تجربات میں
راشد نور
کئ کردار خود اپنی کہانی سے گریزاں ہیں
اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں
غم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے
کسی تاریک گوشے میں بسر ہوگی ہماری
اے متوالی بدلی کالی ، رُوپ کا رس برساتی جا – Ay
محشر ہی بپا ہے نہ قیامت کی گھڑی ہے
سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی
اک سمندر میں جا بسا صحرا
تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے