MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں دائم کہاں رہنا ہے چلے جانا ہے

ہمیں دائم کہاں رہنا ہے چلے جانا ہے
جس پہ چلتے ہیں اسی خاک تلے جانا ہے

اک ذرا نزع کی تکلیف کا چکھنا ہے مزا
اک یہ خواہش کہ تجھے مل کے گلے جانا ہے

موت لے جائے گی مجھ کو جھپٹ کرتجھ سے
زندگی! تونے فقط ہاتھ ملے جانا ہے

جانِ من! میں ہوں ترے صحن کا خود رُو پودا
وقت کے ساتھ ہی میں نے بھی پَلے جانا ہے

تمہیں جانا ہے تو یہ شمع بجھاتے جانا
رات بھر کس کے لیے اس نے جلے جانا ہے

رانا سعید دوشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم