MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

"تعارف”” کائنات کی سب سے خوبصورت تخلیق کا

میں فطرت کی نمائندہ
میں قدرت کی تراشیدہ
میں کائنات کی تصویر کا رنگین ظاہر ھوں
میں کائنات کی تصویر کا پاکیزہ باطن ھوں
میں رشتوں کا تقدس ھوں
اساطیری کتابوں میں لکھا ھے
میں مقدس ھوں
مجھے دھرتی پہ پھیلے حسن میں رکھا گیا ھے
میں پھولوں،خوشبووں ، بارش کے قطروں
کہکشاوں کی فضاوں کی طرح ھوں
میں دل کی دھڑکنوں سے آسماں کی سمت جاتی
سب دعاوں کی طرح ھوں
مرے خالق نے رنگوں کو مرے آنچل میں رکھا ھے
آجائے کو مرے چہرے،سیاہی کو
مرے کاجل میں رکھا ھے
طلب کو حسن کی ممنونیت بخشی گئ ھے
پرندوں کو مری معصومیت بخشی گئ ھے
محبت کے ہر اک چذبے کا مرکز دل ھے میرا
یہ جتنا حسن پھیلا ھے یہ سب حاصل ھے میرا
یہ میرے دل کی دھڑکن ھے جسے چہکار کہتے ہیں
میرے سانسوں کے زیروبم کو سب مہکار کہتے ہیں
شبوں کی چاندنی تو اصل میں اظہار ھے میرا
دنوں کا یہ اجالا اصل میں اقرار ھے میرا
وفا کو پیار کوچاہت کوشقت کو محبت کو
دعا کو چین کو برداشت کواور دل کی راحت کو
مرے خالق نے میرے ہی ضمیر ذات میں رکھا
کہ سارے خیر جذبوں کو
میرے ہی خمیر ذات میں رکھا
مرے ہونٹوں کا رس ھے لوگ جسکو شہد کہتے ہیں
جو کرتی ھوں سب سے، بس اسی کو عہد کہتے ہیں
میں نازک اسقدر ھوں سوچنے سے ٹوٹ جاتی ھوں
بس اک حرف حقارت بولنے سے ٹوٹ جاتی ھوں
میں بیٹی ھوں میری معصومیت چڑیوں کے جیسی ھے
اگر ھوں بہن تو شرم و حیاء کلیوں کے جیسی ھے
میں بیوی ھوں میری وابستگی میری عبادت ھے
می ماں ھوں میری ممتا سے جہان کل عبارت ھے
سنو دیکھو میں عورت ھوں
مگر دیکھو فقط عورت نہیں
میں فطرت کی نمائندہ
میں قدرت کی تراشیدہ

"جہاںآرا تبسم”

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم