MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں خالد کسی سے ہم

کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں خالد کسی سے ہم
دن رات کھیلتے ہیں غمِ بیکسی سے ہم

دزدیدہ اک نگاہ تیری دل کو لے اُڑی
منہ دیکھتے ہی رہ گئے کس بیکسی سے ہم

اچھا کیا کہ تو نے خود آزاد کر دیا
عاجز بھی آ گئے تھے تیری بندگی سے ہم

آ آ کہ جھک گئے ہیں وہیں دو جہاں ندیم
گزرے ہیں جس مقام سے بھی خود سری سے ہم

ویران رہ نہ جائے تیرا آستاں کہیں
لے ہاتھ اٹھا رہے ہیں تیری بندگی سے ہم

خالد غرورِ اہلِ محبت تو دیکھئے
کرتے ہیں بات اُن سے مگر بے رخی سے ہم

خالد علیگ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم