MOJ E SUKHAN

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم
مبتلائے صد آرزو ہیں ہم

دل بھی لوح و قلم کا ہمسر ہے
داستانیں ہیں کتنی دل پہ رقم

عظمت رفتگاں ہے نظروں میں
اپنے ماضی کو ڈھونڈتے ہیں ہم

پارہ پارہ ہے خود جنوں لیکن
فکر انساں اسی سے ہے محکم

بھیگی بھیگی ہے ہر کرن ان کی
ہے ستاروں کی آنکھ بھی پر نم

یوں نہ ہوتی سحر کی رسوائی
کاش کھلتا نہ روشنی کا بھرم

ہم ہیں اور احترام حسن وفا
وہ ہیں اور اہتمام مشق ستم

کمتر اس کو نہ کہئے یزدانیؔ
آدمی خود ہے جان دو عالم

یزدانی جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم