MOJ E SUKHAN

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے
کہیں دریا سے دریا مل رہا ہے

لباس ابر نے بھی رنگ بدلا
زمیں کا پیرہن بھی سل رہا ہے

اسی تخلیق کی آسودگی میں
بہت بے چین میرا دل رہا ہے

کسی کے نرم لہجے کا قرینہ
مری آواز میں شامل رہا ہے

میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں
جو میری بات کا حاصل رہا ہے

کسی کے دل کی ناہمواریوں پر
سنبھلنا کس قدر مشکل رہا ہے

یاسمین حمید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم