پتھروں کی بستی میں سائبان شیشے کا
آؤ ہم بناتے ہیں اک مکان شیشے کا
میرے حوصلے دیکھو زندگی برتنے کو
سر پہ اوڑھ رکھا ہے آسمان شیشے کا
کیسے جھیل پائیں ہم درد کے سمندر کو
گر لگا ہو کشتی میں باد بان شیشے کا
ہر قدم پہ مشکل ہے ہجر کے مسافر کو
زندگی کا رستہ ہے پائدان شیشے کا
کرچیوں کے رستے پر آبلے ہیں پاؤں میں
زندگی نہ لے ہم سے امتحان شیشے کا
دیکھنا محبت سے توڑ ہی نہ دے کوئی
دل ترا ترنم ہے اک جہان شیشے کا
ترنم شبیر