MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہماری قربتوں میں فاصلہ نہ رہ جائے

ہماری قربتوں میں فاصلہ نہ رہ جائے
قدم سے لپٹا ہوا راستہ نہ رہ جائے

ہوائے وحشت دل تیز چل رہی ہے بہت
ردائے ہجر مرا سر کھلا نہ رہ جائے

خدا کے نام پہ جس طرح لوگ مر رہے ہیں
دعا کرو کہ اکیلا خدا نہ رہ جائے

یہ لوگ کس لئے اپنے طواف میں ہیں مگن
صنم کدے میں مصلیٰ بچھا نہ رہ جائے

طنابیں کاٹ رہا ہے وہ خواہشوں کی مری
کہیں پہ دشت میں خیمہ لگا نہ رہ جائے

یہ لمحہ لمحہ جو ہم جام ہجر پی رہے ہیں
تو تشنگی کا سلیقہ دھرا نہ رہ جائے

مجاوران ادب اک نظر عنایت کی
غزل کی شکل میں کتبہ لگا نہ رہ جائے

تسنیم عابدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم